Dec.04

کبوتروں والا سائیں

پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکیے میں مائی جیواں صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس زمین کے اندر کُھدے ہوئے گڑھے میں بڑے بڑے اپلوں سے آگ لگا رہی ہے۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں جب وہ اپنی پانی بھری آنکھوں کو سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کرکے، منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اُپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے تھوڑی سی راکھ اڑتی ہے اور اس کے آدھے سفید اور آدھے کالے بالوں پر جو کہ گھِسے ہُوئے کمبل کا نمونہ پیش کرتے ہیں بیٹھ جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بالوں میں تھوڑی سی سفیدی اور آگئی ہے۔ اُپلوں کے اندر آگ سُلگتی ہے اور یوں جو تھوڑی سی لال لال روشنی پیدا ہوتی ہے مائی جیواں کے سیاہ چہرے پر جھریوں کو اور نمایاں کردیتی ہے۔ مائی جیواں یہ آگ کئی مرتبہ سُلگا چکی ہے۔ یہ تکیہ یا چھوٹی سی خانقاہ جس کے اندر بنی ہوئی قبر کی بابت اس کے پردادا نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے پیر کی آرام گاہ ہے، ایک زمانے سے اُن کے قبضہ میں تھی۔ گاما سائیں کے مرنے کے بعد اب اس کی ہوشیار بیوی ایک تکیے کی مجاور تھی۔ گاما سائیں سارے گاؤں میں ہر دلعزیز تھا۔ ذات کا وہ کُمہار تھا مگر چونکہ اسے تکیے کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی۔ اس لیے اُس نے برتن بنانے چھوڑ دیئے تھے۔ لیکن اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کونڈیاں اب بھی مشہور ہیں۔ بھنگ گھوٹنے کے لیے وہ سال بھر میں چھ کونڈیاں بنایا کرتا تھا جن کے متعلق بڑے فخر سے وہ یہ کہا کرتا تھا۔

General Articles

Dec.04

کالی شلوار

کالی شلوار

دہلی آنے سے پہلے وہ ابنالہ چھاؤنی میں تھی جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی، ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ دہلی میں آئی اوراس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روز اس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔

’’دِ س لیف۔ ویری بیڈ۔ ‘‘

یعنی یہ زندگی بہت بُری ہے جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔ ابنالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھی طرح چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں ہی میں آٹھ دس گوروں کو نمٹا کر بیس تیس روپے پیدا کر لیا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں بہت اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ سر ہلا کرکہہ دیا

کرتی تھی۔

’’صاحب، ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتا۔ ‘‘

General Articles

Sep.28

What Can Parents Do?

Improve Your Memory-ch2

What Can Parents Do?

There are probably even more dedicated parents out there than dedicated students, since the first phone call at any of my radio or TV appearances comes from a sincere and worried parent asking, “What can I do to help my child do better in school?” Okay, here they are, the rules for parents of students of any age:

  1. Set up a homework area. Free of distraction, well lit, with all necessary supplies handy.
  1. Set up a homework routine. When and where it gets Studies have clearly shown that students who establish a regular routine are better organized and,as a result, more successful.
General Articles

Sep.28

Improve Your Memory

Improve Your Memory -ch 1

If it weren’t for the fact that reading is the absolute underpinning of every other study skill, I could make a pretty strong case that spending time improving your memory would deliver the most “study bang” for the buck. It doesn’t matter how rapidly you whiz through your textbooks if you can’t even remember the subject you just studied five minutes later. Getting organized is essential, but not too effective if you always forget to carry your calendar and regularly turn in homework assignments late. And, of course, spending hours searching high and low for keys, glasses, and other essentials isn’t exactly the most efficient way to start your study day.As important as they are, basic memory techniques are the study ingredients least likely to be taught in schools, even in a study skills course. So while the better schools and teachers might help you with reading, writing, organizing, and test strategies, far too many of them will “forget” to help you with your memory…or to find your glasses, keys, etc.

General Articles

Sep.04

میاں عاطف کا جرم کیا ہے؟

میاں عاطف کا جرم کیا ہے؟

عاطف میاں جو اعلانیہ قادیانی ہے ان کو خان صاحب نے پاکستان کے اقتصادی کونسل کے ممبر کو طور پر لیا ہے جس سے پاکستانی عوام میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ چکی ہے.خان صاحب سے پی ٹی آئی کے نوعمر ورکرز بے انتہاء محبت کرتے ہیں اور اس محبت میں غلو کی وجہ سے بڑے اہم وسنجیدہ مسائل بھی سیاسی بحثا بحثی کے شکار ہورہے ہیں جو ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکرز نے اس ایشو کو یہ رنگ دیا ہے کہ عاطف میاں قادیانی ہے تو اس رو سے یہ کافر ہوئے اور کافر کو کوئی سرکاری عہدہ دینا کونسا جرم ہے اقلیتیں بھی تو پاکستانی ہیں. یہ ایک غلط توجیہ ہے پہلی بات یہ ہے کہ قادیانی عام کافر نہیں ہے بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری پیغمبر تسلیم نہ کرکے اسلام سے مرتد قرار پاچکے ہیں

اور اسلام میں مرتد کے احکام دیگر کفار سے مختلف ہیں دیگر کفار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل پیرا رہ کر زندگی گزارے اسلام ان پر کوئی پابندی نہیں لگاتا اور ملکی مناصب پر آسکتے ہیں (جیسے پاکستان میں بھگوان داس صاحب قائم مقام چیف جسٹس رہ چکے ہیں)

General Articles